Molana Khadim Hussain Rizvi passed away news spread all our Pakistan social media.

The Death News of Molana Khadim Hussain Rizvi

نوٹ:ہم آپ کو  اردوبلاگ میں خوش آمدید کہتے ہیں! اس بلاگ میں ہم آپ کے ساتھ حالات حاضرہ اور ملکی و غیر ملکی واقعات کو مختلف پلیٹ فارمز سے مواد  حاصل کر کے کسی بھی موضوع پر ہو چھوٹا یا بڑا ہو حقائق کے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش کریں گےجن میں بعض خبریں تجزیے کے ساتھ اور کچھ صرف معلومات کے متعلق ہوں گی۔اس بلاگ میں ہماری ممکنہ کوشش یہی رہے گی کے تمام خبروں کو اردو میں بما ترجمہ آپ تک پہنچایا جائے، لیکن پھر بھی آسانی کے لیے اس بلاگ کے ساتھ گوگل ٹرانسلیٹر کو منسلک کیا گیا ہے جو آپ کے لیے ترجمہ میں آسانی پیدا کرے گا۔

بریکنگ نیوز: مولانا خادم حسین رضوی اس دار فانی سے انتقال کر گئے!!

The Death News of Molana Khadim Hussain Rizvi

یہ کچھ معلومات جو سر عام میسر ہیں ان کو مشاہدہ کریں۔

ٹی ایل پی نے لیاقت آباد سے فیض آباد تک احتجاجی ریلی نکالی تاکہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی جاسکے۔

پارٹی کے ایک عہدیدار نے ایکسپریس ٹریبیون کو تصدیق کی کہ کچھ دن سے بیمار رہنے کے باوجود ، مولانا جڑواں شہروں میں احتجاج میں شامل ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا رضوی نے احتجاج ختم کرنے کے لئے حکومت سے معاہدہ کرنے کے بعد لاہور واپس آئے۔

گذشتہ سال ، لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے رضوی اور پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری اور دیگر پر اکتوبر 2018 میں توہین رسالت کے ملزموں کی بریت کے بعد ٹی ایل پی کے احتجاج اور احتجاج کے بعد درج ایک معاملے میں فرد جرم عائد کی تھی۔ آسیہ بی بی۔

نومبر 2018 کو رضوی اور قادری کو بھی "حفاظتی تحویل" میں لیا گیا تھا کیونکہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا۔

یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ کے ذریعہ آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ٹی ایل پی سڑک پر آگئی ، جس نے پاکستان کے بڑے شہروں کو مفلوج کردیا۔

احتجاج کے دوران ، ٹی ایل پی رہنماؤں نے فوج اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان دونوں علما پر غداری اور دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا۔نوٹ:موصول ہوئی خبروں کے مطابق مولانا کافی ایام سے بیمار تھے جو بتاریخ 19 نومبر،2020 کو وقت مکمل ہونے کی صورت میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس سے اگر ہٹ کر دیکھا جائے تو مولانا کی پچھلے دنوں بہت ساری سرگرمیاں رہی ہیں ، جیسے کے انھوں نے لاہور بادشاہی مسجد میں جلسہ کیا اور پھر راولپنڈی میں دھرنا کئے ہوئے تھے پھر انھیں موجود حالات کوروناوائرس   یعنی کووڈ-19 کی وجہ سے لاگو کیے گئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا البتہ گرفتاری کی خبر میں کوئی خاص سچائی پر مبنی شواہد نہی مل سکے۔مولانا حرمتِ رسول پر فرانس ایمبیسی اسلام آباد دھرنے میں شمولیت نہی کر سکے تھےحالت ناساز ہونے کی وجہ سے واپس لاہور آگئے تھے، مولانا کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ دورا نے ریلی اسلام آباد میں شرکت کریں گے۔ حال ہی میں مولانا بہت سر گرم تھے اور مسلسل حکومت کے لیے ایک مصیبت کی شکل اختیار کرتے جا رہے تھے اور ایک بڑا محاز کھڑا کر رہے تھے۔ان کے اور موجودہ حالات پر بہت سارے ماہرین نے تجزیات کئے ہیں جن میں سے ابھی تک جس پر میری رسائی ہو سکی ہے وہ سید جواد نقوی کی تجزیہ نگاری ہے ، انھوں نے تمام واقعات کو بڑی خوبصورتی سے ڈھکے چھوپے انداز میں بیانیہ جاری کیا ہے، ان کے تجزیہ سے مستفید ہونے کے لیے ان کے یوٹیوب چینل سےبھی استفادہ کر سکتے ہیں جو کہ اسلامی مرکز کے نام سے مل جائے گا آسانی کی گرز سے میں لنک منسلک کیے دیتا ہوں اور ان کے اس موضوع پر خطبہ کو بھی انشااللہ نیچے منسلک کئے دیتا ہوں تا کے آپ خود مشاہدہ کر سکیں۔ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے یہ حادثہ ہو جانا حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

  ان سب واقعات سے جو حال ہی میں ہوئے ہیں اور جو پہلے کی زندگی میں دوسری حکومتوں کے ادوار میں مولانا کی شخصیت تزلزلی کا شکار ہوئی ہے اور نا زیبا الفاظات کے استعمال کی بنیاد اور انتشار کے الزامات کی وجہ سے بہت بار جیل کا سامنہ بھی کرنا پڑا ۔ان کی شخصیت سے ایک بڑا  مجمع متاثر ہوا ہے اور تحریک لبیک پر کافی اثر پڑا ہے۔ انکی شخصیت کی بنا پر حکومتوں کو بہت مشکلات کا سامنہ کرنا  پڑا ہے اور انھوں نے اسلامی بنیادوں سے استفادہ اٹھاتے ہوئے کئ بار عوام کو حکومتوں کے خلاف نکال کھڑا کیا ہے اور آج وہ خود اس دنیا ہی سے انتقال کر گئے ان کے مرگ سے بہت سے افراد کو فائدہ بھی ہوا ہے اور مزید ہوگا۔ البتہ خداوند کی بارگاہ میں مرحوم کے اچھے اعمال کی بنیاد پر انکی مغرت کے لیے دعا گو ہیں۔

ان کے موضوع پر  یہ معلومات نا کافی ہیں لیکن وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اسے یہاں تک جاری کرنا ضروری ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ جیسے بات واضح ہوئی تو یہاں دوبارہ معلومات درج کی جائیں گی انشااللہ! اگر آپ کے پاس کوئی معلومات ہیں اور کوئی درستگی کرنا چاہتے ہیں تو یہاں جواب درج کر کےضرور بتائیں۔

مولانا سے متعلق گفتگو کے لئے تقریباً 01:02:00 تک لے جائیں۔

ہدائیت: 

کسی بھی خبر کو سن کر پہلانے سے بہتر ہے کہ آپ پہلے اس کی تصدیق کریں آج معاشرے میں ہر فرد ہی فسق کا شکار ہے لہذا اس میں تو قرآن کا حکم بھی یہی ہے کے آپ پہلے خبر کی تصدیق کریں پھر دوسروں تک پہلائیں یہ نا ہو کے آپ کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔

No comments:

Post a Comment