مسلحہ افراد نے کیا  اغوا ، پاکستان میں 11 کان کنوں کی شہادت

Gunmen Kidnap, Execute 11 Miners in Pakistan
لوگ اور کنبہ کے افراد اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کی شناخت کے لئے جمع ہیں ، جو پاکستان کی اقلیتی شیعہ ہزارہ برادری کے کوئلے کے کان کنی کرتے تھے اور 3 جنوری ، 2021 کو ، کوئٹہ ، پاکستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔

پاکستان کے واقع کی خبر عالمی میڈیا میں بے حسی کی مانند نذر آئی افراد کی شہادت کی جگہ بھی لفظ حلاکت استعمال کرتے نذر آئے۔ اس واقع کی ذمہداری دہشت گرد دائش نے قبول کر لی اس کے باوجود پاک آرمی اور گورنمنٹ میں انصاف اور مطالبوں سے متعلق خاموشی نذرآرہی ہے۔ آور بہت سی سیاسی طاقتیں اس واقعہ سے سیاسی فوائد حاصل کرنے میں  ایک دوسرے پر برتری لینے کے لیے دوڑ میں شریک ہیں۔یاد رہے یہ واقعہ ایسے وقت پر ہوا جس وقت دختر رسول ﷺ کی شہادت کے ایام چل رہے ہیں۔ جو ایام فاطمیہ کے نام سے منائے جاتے ہیں۔ اس افسوس ناک واقعہ پر بھی ملک بھر کی عوام میں بے حسی کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے ایسا ماحول مل رہا ہے جیسے آج کے جدید دور میں بھی عوام میں ہندوستان سے متشابہ مسائل کا سامنہ ہے جن میں ذات، فرقہ، علاقہ اور برادری جیسے تعاسب نذر آرہے ہیں۔ ایک نظر نیچے عالمی میڈیا کی رپورٹ پر کرتے ہیں۔

 رپورٹ وائس آف امریکہ سے متعلق ویب سائیٹ کی ہے۔

اسلام آباد - جنوب مغربی پاکستان میں حکام نے اتوار کو بتایا کہ (نامعلوم) مسلح افراد نے کوئلے کی کان کے 11 مزدوروں کو اغوا کرکے ہلاک کردیا۔(بعد میں شہیدوں کے قتل کی ذمہداری   دائش قبول کر چکی ہے۔)

راتوں رات ہونے والا یہ حملہ صوبائی بلوچستان کے صوبہ ، کوئٹہ سے 50 کلومیٹر جنوب مشرق میں ، صوبہ بلوچستان کے شہر ماچھ میں ہوا۔

مقامی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ متعدد کان کن افراد بھی شدید زخمی ہوئے ہیں اور ان کا مقامی اسپتال میں علاج کرایا جارہا ہے۔

وائس آف امریکہ کے ذریعہ حملے کے بعد موصولہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مقتول کارکنوں کی پشت کے پیچھے ہاتھ باندھ کر آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی۔ متاثرین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اقلیت ہزارہ شیعہ برادری کے رکن ہیں ، جو ماضی میں انتہا پسندوں کے حملے میں آچکے ہیں۔

(اسلامک اسٹیٹ نے کہا کہ اس کی پاکستانی شاخ نے نسلی ہزارہ کے افراد کو پھانسی دی۔ اسلامک اسٹیٹ گروپ نے ان ممالک میں شیعہ مسلمانوں ، ان کے مزارات اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں دہشت گرد تنظیم کے وفادار ہیں۔ مزید برآں ، حالیہ مہینوں میں اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں ہزارہ برادری کے خلاف بڑے حملے کیے ہیں ، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔) اس سے مراد ان کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہی اور یہ انہیں اسلامت سٹیٹ سے مشابہت دیتے ہیں۔

 صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ پاکستانی پولیس اور نیم فوجی دستے حملہ آوروں کی تلاش کر رہے ہیں۔

اس واقعے سے ہزارہامسلمان پاکستانی مشتعل ہوگئے جو احتجاج میں سڑکوں پر نکل آئے اور کوئٹہ کو دوسرے شہروں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو روک دیا۔ انہوں نے انصاف اور سلامتی کے مطالبہ کے لئے متاثرہ افراد کی لاشیں سڑک پر رکھی ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاج مظاہروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

فارسی بولنے والی ہزارہ برادری ایک صدی پہلے سے زیادہ ہمسایہ ملک افغانستان سے ہجرت کر چکی ہے اور کوئٹہ کے کچھ حصوں میں آباد ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اس حملے کی دہشت گردی کی ایک "بزدلانہ غیر انسانی حرکت" کی مذمت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

 

(اس کے علادہ وزیراعظم  پھر ٹویٹ ٹویٹ کھیلتے نظر آئے جب کے مظاہرین کے مطالبوں کی طرف انکا کوئی جھکاؤ نظر نہی آرہا۔ بس وہ اس ٹویٹ کے ذریعے دکھ بانٹتے نظر آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کی حکومتیں ان جیسے افراد سے ایسے ہی سلوک کرتی نظر آئی ہیں جس سے یہ صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ان میں اور دوسرے حکمرانوں میں کوئی فرق نہی تھا۔)

 بلوچستان اکثر سیکیورٹی فورسز اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے لوگوں پر حملوں کا سامنا کرتا آیا  ہے۔

حکام قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستانی صوبے میں علیحدگی پسند بلوچی باغیوں اور دیگر شدت پسند گروہوں پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ، بلوچستان کے دور دراز ضلع ہرنائی میں عسکریت پسندوں نے ایک سیکیورٹی چوکی پر چھاپہ مارا ، جس میں کم از کم سات نیم فوجی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

(اس ملک کے حکام کی اتنی ہی بصیرت ہے جو اپنے اداروں کو بھی اتنی تقویت نہی دے سکی کے وہ اپنی حفاظت کر سکیں ایسے میں عوام ان سے کیا توقعات رکھے گی؟؟)

ایسے میں پاکستانی حکام  کا الزام ہے کہ بلوچی علیحدگی پسندوں کو حریف بھارت کی حمایت اور مالی اعانت فراہم حاصل رہی ہے ، یہ الزام عائد کیا جبکہ  پڑوسی ملک نے انکار کردیاہے۔

No comments:

Post a Comment